28 فروری 2026 - 01:02
توحیدی قیادت انبیائے الٰہی کے راستے پر

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) عوام الناس میں سے اٹھنے والے رہبر ہیں، وہ مدرسہ اور عوام کے فرزند ہیں، اور رنج و مشقت، جدوجہد، جلاوطنی اور قید کے ساتھ پروان چڑھے ہیں؛ وہ مؤمن عوام اور ان کے ہمدردوں میں سے ہیں۔ وہ انبیاء کی طرح، لوگوں کی ہدایت، ان کے حقوق کا تحفظ اور معاشرے کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال لانے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور ایمان کی مضبوطی اور نیک عمل کی بنیاد پر "حیات طیبہ" (پاکیزہ زندگی) کے حصول کے درپے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قرآن کریم، "قیادت الٰہی انبیاء کے راستے پر" نمونہ پیش کرتا ہے؛ ایسی قیادت جو انبیاء کے راستے کی وارث، ان کی رسالت کی نگہبان اور عصر غیبت میں معاشرے کی ہدایت کی ذمہ دار ہے۔ سورہ مبارکہ یٰسین کی آیات 20 تا 27، "رَجُلٌ مُؤْمِنٌ" (ایک مردِ مؤمن) کا تعارف کروا کر، اس قسم کی قیادت کی ایک لازوال مثال پیش کرتی ہیں؛ ایک ایسا نمونہ جس کی ایک روشن جھلک انقلاب اسلامی کے رہبر معظم، امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی شخصیت اور سیرت میں دیکھی جا سکتی ہے۔

"وَجَاءَ مِنْ أَقْصَىٰ الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَىٰ؛ اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہؤا آیا"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) عوام الناس میں سے اٹھنے والے رہبر ہیں، وہ مدرسہ اور عوام کے فرزند ہیں، اور رنج و مشقت، جدوجہد، جلاوطنی اور قید کے ساتھ پروان چڑھے ہیں؛ وہ مؤمن عوام اور ان کے ہمدردوں میں سے ہیں۔ وہ انبیاء کی طرح، لوگوں کی ہدایت، ان کے حقوق کا تحفظ اور معاشرے کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال لانے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور ایمان کی مضبوطی اور نیک عمل کی بنیاد پر "حیات طیبہ" (پاکیزہ زندگی) کے حصول کے درپے ہیں۔

"مِنْ أَقْصَىىٰ الْمَدِينَةِ" یعنی دولت اور طاقت کے باطل چکر سے دوری، خالص مادی حساب کتاب سے کنارہ کشی اور معاشرے کے دکھوں سے قربت؛ اور "يَسْعَى" : ایک فعال، فکر مند اور نہ تھکنے والی قیادت۔ ایسی قیادت جو مشکل ترین حالات میں، مسلط کردہ جنگ سے لے کر مخلوط، ادراکی اور تہذيبی جنگ تک، بہادری اور حکمت کے ساتھ میدان میں ڈٹی رہی ہے؛ وہ عافیت طلب نہیں ہے اور ہمیشہ جہاد، جدوجہد اور جان نثاری کے مرکز میں موجود رہتی ہے۔

"يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ؛ اے قوم مرسلین کی پیروی کرو"

قیادت اللہ کے سیدھے راستے پر ہے اور ہمیشہ مکتب انبیاء کی طرف رجوع کراتی ہے۔

ایسی قیادت جو لوگوں کو قرآن، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت، اہل بیت علیہم السلام کے مکتب اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی تعلیمات کی طرف بلاتی ہے۔ اُن کی منطق میں، ولایت، رسالت کا تسلسل اور انسانیت کی سعادت کے لئے دین کے قیام کا عملیاتی (آپریشنل) وسیلہ موجود ہے؛ جیسا کہ سورہ یٰس کے مردِ مؤمن نے لوگوں کو "مرسلین" (پیغمبروں) کی پیروی کی دعوت دی۔

"اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا؛ اس کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا"

زہد، فیاضی اور پاک دامنی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت کی نمایاں ترین خصوصیات ہیں: سادہ زندگی، اشرافیت سے پرہیز اور حکمرانی کے مراعات سے ذاتی یا خاندانی فائدہ نہ اٹھانا۔ یہی قیادت کا قرآنی معیار ہے؛ ایسے قیادت جو "کثِیرُ المَعُونَةِ" (بہت زیادہ معین و مددگار) ہے اور محرومین اور عوام کے مختلف طبقات کی حامی ہے۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ)، امت کا باپ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ساتھ ہی "قَلِيلُ المَؤُونَةِ " (بہت کم خرچ) ہیں اور امت پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتے۔

"وَهُمْ مُهْتَدُونَ؛ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں"

قرآن میں ہدایت یافتگی کا مطلب بصیرت، نورانیت، حکمت اور موقع پر صورت حال کی درست تشخیص ہے۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) ایک فقیہ ہیں جو اہل بیت (علیہم السلام) کے مکتب سے اٹھے ہیں، قرآن شناس ہیں، اسلام اور مغرب کی تاریخ سے آشنا ہیں، عالمی سیاست کے گہرے تجزیہ کار ہیں اور تہذیبی نظریئے کے مالک ہیں۔ یہی ہدایت یافتگی اُنہیں امت اسلامی کی ہدایت، حرکت، مقاومت، استحکام اور بصیرت کا محور بنا دیتی ہے۔

"وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي؛ اور میں کیوں اس [ذات] کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔"

فیصلوں میں توحید کی مرکزیت، امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے فکری نظام کا بنیادی اصول ہے۔ عمومی مصلحت توحید، عدل اور انسانی وقار کے دائرے میں معنی پاتی ہے۔ اُن کی سیاست قرآنی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اہل بیت (علیہم السلام) کی سیرت کے مدار پر چلتی ہے؛ کیونکہ اخلاق کے بغیر طاقت، طاغوت بنا دیتی ہے۔ شیطان بزرگ امریکہ کے مقابلے میں مقاومت و مزاحمت سے لے کر فلسطین کی حمایت تک، اُن کے تمام بڑے فیصلے اللہ پر بھروسے اور اس کے وعدوں پر ایمان پر مبنی ہیں۔ "إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ؛ یقیناً میرا پروردگار میرے ساتھ، جو بہت جلد میری راہنمائی کرے گا۔"

"إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ؛ اگر ایسا نہ کروں تو میں اس وقت ایک آشکار گمراہی میں ہوں گا۔"

طاغوت اور استکبار کے ساتھ واضح حد بندی، ہمیشہ سے  اس قیادت کی خصوصیت رہی ہے۔ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کبھی بھی دشمنوں کے سامنے تزویراتی ابہام (اور غیر یقینی صورت حال) سے دوچار نہیں ہوئے ہیں؛ آپ امریکہ کو عالمی استکبار کا مظہر اور صہیونیت کو اُس کا لے پالک اور امت اسلامی کا دشمن مانتے ہیں اور طاغوت کے ساتھ سا‌زباز کو گمراہی اور توحید کے راستے سے انحراف سمجھتے ہیں؛ یہ وہی حکمت اور شجاعت ہے جو سورہ یٰس کے مردِ مؤمن نے اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے دکھائی۔

"إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ؛ [اسی سبب سے] میں تمہارے پرورگار پر ایمان لایا، تو میری باتیں کان لگا کر سن لو۔"

امام خامنہ ای کا ایمان ایک شعوری، امید افزا اور متاثر کن ایمان ہے؛ ایسا ایمان جس نے لاکھوں دلوں کو اپنے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ہے۔ آپ کو دھمکی دی گئی، پابندیاں لگائی گئیں، آپ کی کردار کشی کی گئی، شیاطین، منافقین اور طاغوت اور عالمی شرپسند محاذ نے آپ کے مقابلے میں صف آرائی کی لیکن وہ کبھی اپنے توحیدی موقف اور ہدایت و نورانیت اور خدا کی 7 اور عدل و حق سے پیچھے نہیں ہٹے: "لا یَخافُ فی اللهِ لومةَ لائم" (وہ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے (سورہ مائدہ، آیت 54))۔ یہ ایمان انسان ساز، معاشرہ ساز اور تہذیب ساز ہے۔

"يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ؛ کاش میری قوم والے جانتے۔"

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت کی پہچان توحیدی، امت کی خیر خواہی اور اللہ کی بندگی اور طاغوت سے نجات کی دعوت دینے والی ہے؛ یہاں تک کہ تلخ زباں ناقدین، غافلوں اور ابلاغیاتی جنگ سے متاثرہ فریب خوردہ لوگوں کے سامنے بھی رہبر انقلاب اسلامی کا لب و لہجہ خیر خواہانہ اور ہدایت و راہنمائی سے بھرپور اور حقیقی معنوں میں شفیق باپ کا لب و لہجہ ہے؛ وہی روح جو سورہ یٰس کے مردِ مؤمن میں نظر آتی ہے؛ ایک شخصیت جو توحیدی معرفت، وقار، عزت اور شرافت کے عروج پر ہے اور مقام مرجعیت اور ولایت فقیه میں، پوری انسانی معاشرے اور تمام احرار عالم کی، ہر دین و مذہب کے لوگوں کی، اسلام و مسلمین کی اور شیعیانِ امیر المؤمنین (علیہ السلام) اور عظیم ایرانی قوم ایران کی خیر خواہ ہے۔

امام خامنہ ای (مدّ ظلّہ العالی) نہ تو نبی ہیں اور نہ ہی کسی نبی کے براہ راست وصی ہیں، لیکن عصر غیبت میں مکتب انبیاء (علیہم السلام) کے سچے یار و یاور امام زمانہ (علیہ السلام) کے نائب عام کا منفرد اور عملی نمونہ ہیں۔ وہ امت کو ہدایت اور دین حق کی طرف بلاتے ہیں، اس ہدایت کی قیمت بھی ادا کرتے ہیں، صرف خدا کے سامنے سر خم کرتے ہیں، 'طاغوت اکبر' کے سامنے مجاہدانہ اور قربانی کے جذبے کی بنا پر ثابت قدمی سے ڈٹ جاتے ہیں، تہذیبی راہ کشائی کرتے ہیں اور عالمِ انسانیت کے نجات دہندہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام حجت بن العسکری (عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشریف)، کے ظہور کے لئے راہ ہموار کرتے اور ماحول سازی کرتے ہیں۔

اور یہ وہی راستہ ہے جو قرآن کریم نے سورہ یٰس رسم فرمایا ہے

آخر میں، اللہ کی شکرگزاری کی ذمہ داری نبھانے اور اللہ کی اس بے انتہا نعمت کی مزید قدر دانی کے لیے، امت اسلامی کے مجاہد کبیر، شہید عظیم الشان، مقاومت اور قربانی کی عظیم مثال، ہمارے عزیز بھائی شہید سید حسن نصر اللہ (اعلی اللہ درجتہ) کی وصیت یاد دلاتا ہوں جنہوں نے فرمایا:

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

"أوصيكُم بأن يكُون إيمانُكُم بقيادة سماحة الإمام الخامنئی (دام ظلّه) محكماً وقوياً مِن أجلِ خير دنياكُم وآخرتكُم"

(میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ حضرت امام خامنہ ای (دام ظلہ) کی قیادت پر تمہارا ایمان مضبوط اور پختہ ہو؛ تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے۔)

امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) واقعی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے اس فرمان کا واضح مصداق ہیں: "ألا إنّ الفَقيهَ مَن أفاضَ عَلَى النّاسِ خَيرَهُ، وَأنقَذَهُم مِن أعدائهِم؛ خبردار! فقیہ وہ ہے جو اپنی خیر و بھلائی لوگوں پر نچھاور کر دے اور انہیں ان کے دشمنوں سے نجات دلا دے۔" (مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، بحار الانوار، ج2، ص5۔)

"اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ" (اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کہاں رکھ لے۔" (سورہ انعام، آیت 124)

خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کا منصب کہاں رکھے

رہبر معظم انقلاب کے طرز زندگی کی ایک مثال خود اُن کی زبانی:

"بندہ ـ جو کہ ان دنوں یہاں آپ کی خدمت میں حاضر ہے، ـ اپنا کام صبح پانچ بجے سے شروع کرتا ہے... کام کرنا چاہئے بھائیو! اس نوجوانی سے، جتنا ہو سکے، فائدہ اٹھاؤ ۔۔۔ اس ملک کو مستقبل میں آپ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔" (خطاب بمورخہ 9 مئی سنہ 2016ع‍)

دیکھئے: سورہ یس کی آیات 20 تا 27:

(وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ (20) اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ (21) وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (22) أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لَا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونِ (23)إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (24)إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ (25) قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ (26) بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ (27)

اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہؤا آیا، کہا اے میری قوم والو! ان پیغمبروں کی بات مانو (20) پیروی کرو اس کی جو تم سے کوئی اجر و معاوضہ نہیں مانگتا اور وہ ہدایت کے راستے پر ہیں (21)   پیروی کرو ایسے شخص کی جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور وہ ہدایت کے راستے پر ہیں (21) اور میں کیوں اس [ذات] کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے (22)  کیا میں اسے چھوڑ کر ایسے خداؤں کو اختیار کروں کہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچائے؟ (23) اگر ایسا نہ کروں تو اس وقت میں ایک آشکار گمراہی میں ہوں گا (24) [اسی سبب سے] میں تمہارے پرورگار پر ایمان لایا، تو میری باتیں کان لگا کر سن لو (25)

 کہا گیا کہ بہشت میں داخل ہو جا، اس نے کہا کہ کاش میری قوم والے جانتے (26) کہ میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور مجھے معزز لوگوں میں قرار دیا (27)

مورخہ 26 فروری 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: آیت اللہ عباس کعبی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha